Friday, December 28, 2007

فوج کو زمین کیوں چاہئے؟

فوج اور فوجیوں کو زرعی زمین دینے کا سلسلہ بہت پرانا ہے اور انگریزوں کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔

اس زمانے میں انگریز سرکار ہر نئی آباد ہونے والی زمین کا دس فیصد حصہ فوجیوں کو دیا کرتی تھی۔ انیس سو بارہ کا’کولونائزیشن آف لینڈ ایکٹ‘ ایک ایسا قانون ہے جو انگریزوں نے بنایا تھا اور جس کے تحت انیس سو سینتالیس سے پہلے سے لے کر اب تک فوجیوں کو زمین دی جاتی رہی ہے۔

اس کے علاوہ انگریز کے زمانے میں گھوڑی پال مربعے دینے کا رواج تھا تا کہ ہندوستانی افواج کے لوگ انگریز سرکار کے تابع رہیں۔ یہ قانون اب تک نہیں بدلا گیا ہے اور اس کے تحت تقریباً بیس لاکھ ایکڑ زمین ملک کے مختلف حصوں میں فوجی افسران اور سپاہیوں کی دی جا چکی ہے۔ فوجی یا ملٹری فارمز اس کے علاوہ ہیں۔

یاد رہے کہ انیس سو ساٹھ کے عشرے میں فوجی افسران کو سندھ میں بھی زمین دی گئی تھی اور یہ سلسلہ انیس سو ستر اور اسّی کی دہائیوں میں بھی جاری رہا۔ لیکن فوج کو زمین کیوں ملتی ہے، یہ سوال اب کیوں اٹھایا جا رہا ہے؟ یہ ایک انتہائی اہم نکتہ ہے۔

اس بات کے منظر عام پر آنے کی تین وجوہات ہیں: پہلی یہ کہ انیس سو اسی کی دہائی سے زمین حاصل کرنے کے معاملے کو زیادہ منظم کر دیا گیا ہے۔

انیس سو اسّی میں جنرل ضیاءالحق کے دور حکومت میں فوج کے تینوں بازؤوں کے فوجی افسران اور سپاہیوں کو زمین یا گھر الاٹ کرنے کا انتظام کیا گیا۔ اس سکیم کے تحت ماہانہ قسطوں کے عوض فوجیوں کو ریٹائرمنٹ پر ایک بنا بنایا گھر ملتا تھا۔ اس وجہ سے فوج کو دی جانے والی زمینوں کا رقبہ مزید بڑھ گیا۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ زمین کی قیمت میں اضافے کے ساتھ لوگ اس بات سے مزید آگاہ ہونے لگے کہ فوج کو بہت سی زمین تقسیم کی جا رہی ہے۔

اور تیسری بات یہ کہ ملکی سیاست میں فوج کی دراندازی سے یہ معاملہ زیادہ ابھر کر سامنے آیا ہے۔

میں نے اپنی زیر طبع کتاب، ملٹری انک (Military Inc) کے سلسلے میں، جس میں زمین کا مسئلہ بھی زیر غور ہے، بہت سے فوجی افسران سے اس حوالے سےگفتگو کی کہ آیا یہ درست ہے کہ فوجیوں کو زمین ملنی چاہیے؟

اکثر کی رائے یہ تھی کہ ایک فوجی جو اپنے ملک کے لیے جان دینے کے لیے تیار ہوتا ہے، اسے زمین دینے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔ یہ زمین اس کی ذہنی آسودگی کا سبب بنتی ہے جس کے بعد وہ اپنا کام بہتر طور پر کر سکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جس فوجی افسر سے بھی اس موضوع پر بات کی اس نے میری توجہ ہزاروں سِول ملازمین کی جانب مبذول کرائی جو اپنی ملازمت سے بیش بہا فائدے اٹھاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ایک ڈپٹی کمشنر یا ایس۔پی پولیس اس قدر فائدے حاصل کرتا ہے تو کیا حرج ہے کہ فوجی بھی فائدہ اٹھا لے؟

چند افسران ایسے بھی تھے جنہوں نے گفتگو کے دوران اس بات کا اظہار کیا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ یعنی زمین کی یوں تقسیم نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن اس کے بعد چند سِول اداروں کے ذکر کر کے، جو ’اپنی ضرورت سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں” یہ بات وہیں ختم ہو گئی۔

حقیقت یہ ہے کہ جس ملک کے پاس اتنے وسائل نہ ہوں جس سے وہ اپنے ملازمین کی آسودگی کا بندوبست کر سکے اور جہاں قانون پر عمل درآمد بہت کم ہو، وہاں لوگ اور ادارے اپنے اختیارات کے زور پر کچھ ایسے فائدے اٹھاتے ہیں جو باقی افراد کی دسترس سے باہر ہوتے ہیں۔ اور فوج خود کو اعلیٰ ترین ادارہ قرار دیتی ہے، جس کے ملازمین کی فلاح و بہبود بےحد ضروی ہے۔

اصولاً اس بات میں کوئی ایسا مسئلہ نظر نہیں آتا کہ فوج یا کسی اور ادارے کو زمین دی جائے۔ لیکن پھر اور بہت سے غیر فوجی لوگ بھی ہیں جنہیں زمین ملنی چاہیے۔ اس کے علاوہ اس زمین کے مستحق خصوصاً ان فوجیوں کے اہل خانہ ہیں جنہوں نے ملک کی حفاظت کے لیے جان دی۔

لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ بہت سے اعلیٰ افسران نے نہ صرف اس سکیم سے فائدہ اٹھایا ہے بلکہ اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے زمین کو قابلِ کاشت بھی بنایا ہے جس کے باعث یہ معاملہ عوام کی نظروں میں مزید ابھر کر سامنے آیا ہے۔

پاکستان میں اکاؤنٹنگ کا ایسا کوئی طریقہ نہیں ہے جس سے سرکار کو یہ معلوم ہو سکے کہ اس کے پاس کتنی زمین موجود ہے؟ لہذا اب تک یہ ہوتا رہا ہے کہ فوج کو جس طرح کی اور جہاں بھی زمین پسند آ جائے، وہ اسے زورِ بازو سے حاصل کر لیتی ہے۔

اس طرح سے حاصل کی گئی زمین کو آباد کرنے کے لئے سرکاری خزانے سے خرچ کیے گئے پیسے کا بھی کوئی حساب یا ریکارڈ نہیں ہے۔ ایک فوجی جنرل کے مطابق ایسی روایت کا ختم ہونا ضروری ہے اور سرکار کو چاہیے کہ وہ شہری یا زرعی زمین صرف ایک مخصوص مدت کے لیے کسی فوجی کو دے اور مقررہ عرصے کے بعد یہ زمین واپس لی جائے۔

تاہم ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ فوج کے اعلیٰ افسران کو جنہیں اپنے اختیارات کا احساس بھی ہے اور ان کو ایک عام سپاہی سے کہیں زیادہ زمین ملتی ہے، ان سے زمین کی واپسی کی توقع بےسود ہے۔

فوج کے ایک عام سپاہی کو پندرہ سے بیس ایکڑ اور اعلیٰ افسر کو پچاس سے دو سو ایکڑ تک زمین دی جاتی ہے۔ اس کے لئے ایک پوائنٹس کا نظام استعمال کیا جاتا ہے جس کے حساب سے تمغے ملنے اور زیادہ لمبی نوکری سے پوائنٹ زیادہ ہوتے ہیں۔

انیس سو سینتالیس کے بعد زمین اس اصول کو سامنے رکھ کر تقسیم کی جاتی تھی کہ سرحد کے قریبی علاقوں میں کوئی بھی کاشت کاری کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ لہذا مقامی لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے کے بجائے کہ وہ ان زمینوں کو آباد کر سکیں، یہ طے کر لیا گیا کہ صرف فوجی ہی اپنے آبائی گھر چھوڑ کر ان زمینوں کو آباد کریں گے۔

تاہم یہ بات قطعی درست نہیں کہ فوج کے جانے سے ہی دور دراز علاقے آباد ہوئے۔ کئی مواقع پر ایسا بھی ہو چکا ہے کہ مقامی لوگوں کی آباد کردہ زمینیں فوج کو دے دی گئیں۔

فوج کو زمین کیوں دی جاتی ہے اور اس کا قومی سلامتی پر کیا اثر پڑتا ہے؟ اس بارے میں پیش کئے جانے والے تمام مفروضوں کی آج کے دور میں کوئی گنجائش نہیں۔

یہ بات اپنی جگہ بالکل سچ ہے کہ فوج اور سرکاری ملازمین کو فرائض کی صحیح انجام دہی کے لیے سہولیات کی ضرورت ہے لیکن زمینوں کے معاملے میں فوج کی سیاسی طاقت اور اختیار کا اہم کردار ہے۔ اسی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے فوجیوں کو وسائل یا زرعی زمین مہیا کی جاتی ہے۔

اور تاحال ایسی کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ اس مسئلے پر حقیقی بنیادوں پر غور کر کے اس کا سدِباب کیا جائے۔

استعفی کون دے گا

صدر جنرل پرویز نے نو مارچ کو ججوں کی رہائش گاہوں میں جاسوسی کے آلات لگانے والی ایجنسیوں کے اعلی حکام کی موجودگی میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے استعفی لینے کی پانچ گھنٹے کی ناکام کوشش کے بارے میں بارہا یہ اعتراف کیا ہے کہ کیس کو مِس ہینڈل کیا گیا اور جو ریفرنس انہوں نے عجلت میں تشکیل دی جانے والی سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے بھیجا اسکے ذمے دار وہ نہیں بلکہ وزیرِ اعظم شوکت عزیز ہیں۔ اور جب وزیرِ اعظم اس طرح کا کوئی ریفرنس بھیجتا ہے تو صدر آئینی طور پر پابند ہوتا ہے کہ وہ یہ ریفرنس نہ روکے بلکہ کاروائی کے لئے متعلقہ ادارے کے سپرد کردے۔

اسکے ساتھ ہی ساتھ گزشتہ چار ماہ کے دوران صدرِ مملکت سے لے کر وزیرِاعظم شوکت عزیز اور وزیرِ قانون وصی ظفر سے لے کر سرکاری وکلاء تک ہر ایک یہ گردان کررہا ہے کہ عدالت کا جو بھی فیصلہ آیا اسے خوشدلی سے تسلیم کرکے اسکا پورا احترام کیا جائے گا۔

لیکن کیا صرف یہ کہہ دینا کافی ہے کہ عدالت کا فیصلہ خوشدلی سے تسلیم کرلیا جائے گا یا دائر کردہ ریفرنس کی طرح اس خوش دلی کا کوئی ٹھوس ثبوت بھی مہیا کیا جائے گا۔

لیکن صدر مشرف جو پچھلے چار ماہ کے دوران اپنے استعفی کے سوال پر گول مول جواب دینے یا بات بدل دینے کے عادی رہے ہیں اب بھی بڑی آسانی سے یہ دلیل دے کر جان چھڑا سکتے ہیں کہ میرا اس ریفرنس سے کیا لینا دینا۔ میں تو صرف ایک پوسٹ آفس کا کام کررہا تھا۔اصل ذمہ داری تو شوکت عزیز اور انکی حکومت پر آتی ہے جنہوں نے یہ ریفرنس تیار کیا۔ میں نے تو صرف اس ریفرنس کو آگے بڑھا دیا۔ میں کیوں ذمہ داری قبول کروں یا استعفی دوں۔

تو کیا صدر مشرف وزیرِ اعظم شوکت عزیز کا استعفی طلب کر کے یا برطرف کر کے آج کے عدالتی فیصلے کو خوشدلی سے قبول کرنے کا ثبوت دیں گے۔ کیونکہ یہ شوکت عزیز کی جانب سے بجھوایا جانے والا ہی ریفرنس تو تھا جس کے نتیجے میں ملک کا طول وعرض گو شوکت گو کہ بجائے گو مشرف گو کے نعروں سے گونج اٹھا اور عدالت کے آج کے فیصلے کے نتیجے میں نہ صرف یہ ریفرنس غیر قانونی بلکہ ایک خونی ریفرنس بھی ثابت ہوا جس کے نتیجے میں بارہ مئی کو کراچی میں پچاس اور فیصلے سے تین روز قبل اسلام آباد میں چیف جسٹس کے استقبالیے کے باہر خود کش حملے کے نتیجے میں اٹھارہ افراد جاں بحق ہوئے۔گویا اس ریفرنس نے صرف آئینی نظائر کو ہی نہیں بلکہ اڑسٹھ انسانی جانوں کو بھی روند ڈالا۔

اگر صدر مشرف آج کے بعد سٹیل مل کیس ہارنے والے اور سٹاک ایکسچینج سکینڈل میں اپنے دامن پر پڑنے والے چھینٹوں کو مسکراتے ہوئے دھونے والے شوکت عزیز کو رخصت کرنے کے فیصلے کو اپنی ساکھ کی کمزوری پر محمول کرتے ہیں تو کیا ان لوگوں کے خلاف کوئی ایکشن لیا جائے گا جنہوں نے یہ ریفرنس شوکت عزیز کو تھما کر اور شوکت عزیز نے صدر مشرف کو تھما کر اور صدر مشرف نے عجلت میں بلائی جانے والی سپریم جوڈیشل کونسل کو تھما کر ایک دوسرے کی جگ ہنسائی کا خوب خوب سامان فراہم کیا۔

جو حکومت ایک چیف جسٹس کو اپنے بیٹے کی سفارش اور پٹرول کی جعلی رسیدوں جیسے الزامات کے تحت سبکدوش کرنا چاہتی تھی خود اس حکومت کی سبکدوشی کے لئے آخر کتنے اور سکینڈل درکار ہیں۔

ڈوپنگ کون کررہا ہے؟

انیس سو پچھتر میں جب امریکہ ویتنام کی شکست کے زخم چاٹ رہا تھا امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے دنیا بھر میں سی آئی اے کی ان خفیہ سرگرمیوں کو لگام دینے کا فیصلہ کیا جن کے نتیجے میں امریکی امیج تباہ ہورہا تھا۔

سی آئی اے کے اہلکاروں کو شہادت کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا اور پابند کیا گیا کہ آئندہ وہ کسی ایسے منصوبے پر عمل نہیں کریں گے جو کانگریس کے علم میں نہ ہو اور جس کی حکومت نے قانونی اجازت نہ دی ہو۔ چنانچہ اگلے کم ازکم چوبیس برس کے لیے سی آئی اے کے پر کاٹ دئیے گئےاور کسی نے بھی اس وقت یہ نہیں کہا کہ سی ائی اے ایک حساس قومی ادارہ ہے اور اس کے معاملات پر کھلے عام بحث سے ملکی سالمیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

پاکستان میں سینکڑوں لوگوں کی پراسرار گمشدگی میں ایجنسیوں کے مبینہ کردار پر پارلیمان میں کوئی سوال اٹھنا تو درکنار جب ہائی کورٹ وزارتِ دفاع کے وکیل سے کہتی ہے کہ وہ اپنی ماتحت ایجنسی سے فلاں لاپتہ آدمی کے بارے میں معلوم کرکے بتائیں تو وکیل کا جواب یہ ہوتا ہے کہ وزارتِ دفاع کا اس ایجنسی پر انتظامی اختیار نہیں ہے۔

اسرائیل نے انیس سو بیاسی اور پھر جولائی دوہزار چھ میں لبنان میں اسرائیلی فوج کے طرزِ عمل اور ناکامیوں کی چھان بین کے لیے عدالتی کمیشن مقرر کئیے۔

بھارت نے انیس سو ننانوے میں کارگل کے محاز پر فوجی غفلت کی چھان بین کے لیے نہ صرف تحقیقاتی کمیشن بٹھایا بلکہ اسکی رپورٹ بھی ویب سائٹ پر شائع کردی لیکن پاکستان میں اگر صدر مشرف سے پوچھا جائے کہ کارگل پر چہ مگوئیوں کے خاتمے کے لیے آخر کوئی تحقیقاتی کمیشن کیوں تشکیل نہیں دیا جاتا تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ گڑھے مردے اکھاڑنے سے کیا فائدہ۔

اسی طرح جوہری ٹیکنالوجی کی غیر قانونی اسمگلنگ کے بارے میں پاکستان پر پچھلے دو برس سے مسلسل سوالیہ نشان ہے اور ہر کچھ عرصے بعد پاکستانی وزارتِ خارجہ کو صفائی پیش کرنی پڑتی ہے۔اگر ڈاکٹر قدیر کے اسمگلنگ ریکٹ کے بارے میں حکومتِ پاکستان اپنے طور پر کوئی غیر جانبدار تحقیقاتی کمیشن قائم کردیتی تو بہت سے منہ بند ہوجاتے اور یہ بھی پتہ چل جاتا کہ چوبیس ٹن کے جوہری آلات اکیلے ڈاکٹر قدیر نے اسمگل کئیے یا ان کے کچھ اور معاون بھی یہ وزن ڈھونے میں شریک تھے۔

پاکستان میں قومی سانحات کی چھان بین کی صرف ایک مثال حمود الرحمٰن کمیشن کی شکل میں دستیاب ہے۔اس کی رپورٹ پر عمل ہونا تو کجا اسے اتنے طویل عرصے بعد شائع کیا گیا کہ بیشتر کلیدی کردار دنیا سے جاچکے تھے۔

عجیب بات ہے کہ جب شعیب اختر اور محمد آصف نے پرفارمنس میں اضافے کے لیے ادویات کا غیر قانونی استعمال کیا تو پاکستان نے ازخود تحقیقات کرکے یہ موقف اختیار کیا کہ اس سے کرکٹ کی دنیا میں پاکستان کا وقار بلند ہوگا اور ساکھ میں اضافہ ہوگا۔

لیکن جن کرداروں نے پوری قوم کے ساتھ ڈوپنگ کی اور کررہے ہیں ان کے خلاف کسی بھی طرح کی تحقیقات کا مطالبہ حساس قومی معاملہ کہہ کر قالین کے نیچے دبا دیا جاتا ہے۔

جنرل کو کیا ملے گا؟

تو آخر پھر آرمی چیف پرویز مشرف اپنے عہدے سے دستبردار ہو ہی گئے۔

سروس کے آخری دن وہ خاصے آزردہ تھے۔ اور آخر کیوں نہیں؟ آخر انہوں نے پاک فوج میں اتنے دن گزارے ہیں اور اس ادارے نے ان کے ساتھ خاصا اچھا سلوک کیا ہے۔

آپ اس کا اندازہ اس سے لگائیں کہ انہیں گھر جاتے وقت بھی خالی ہاتھ نہیں بھیجا گیا۔ پینشن تو خیر کوئی خاص مراعات میں سے نہیں۔ یہ تو ہر سول اور فوجی ملازم کو ملتی ہے۔ پاکستان حکومت ہر سال کوئی پینتیس بلین (ارب) روپے فوجی پینشن کی مد میں خرچ کرتی ہے اور اس کا بڑا حصہ بڑے افسران کے کھاتے میں جاتا ہے کیوں کہ وہ ہی سب سے زیادہ وقت فوج میں گزارتے ہیں جب کہ فوج کا ایک بڑا حصہ کپتان یا میجر تک پہنچتے پہنچتے ریٹائر ہو جاتا ہے۔ سب سے زیادہ سروس جرنیل کی ہوتی ہے خاص طور پر اس جرنیل کی جو حکومت پر حکمراں ہو جاتا ہے۔

مثلاً پرویز مشرف تقریباً تیس لاکھ روپے نقد لے کرگھر جائیں گے اور ان کی ماہانہ پینشن بھی کوئی پینتالیس یا پچاس ہزار کے لگ بھگ ہو گی۔ پینشن کی رقم کا زیادہ دار و مدار اس بات پر ہوتا ہے کہ افسر نے کتنے سال سروس میں گزارے۔

اس کے علاوہ ریٹائر ہونے والے ہر چیف کو ایک بڑی گاڑی درآمد کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ تمام پرانے سروس چیفس کے پاس ایک مرسیڈیز پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ تین یا چار ملازم جو تا حیات رہتے ہیں اور جن کی تنخواہ اور کھانا سرکار دیتی ہے۔ فوجی کلبوں کی ممبر شپ، مفت علاج اور ایک گھر اس شہر میں جہاں وہ رہنا چاہیں ملتا ہے۔

لیکن قصہ یہیں ختم نہیں ہو جاتا۔ ہر فوجی افسر کو ملازمت کے کچھ عرصے کے بعد کوئی نہ کوئی شہری یا زرعی جائیداد ملتی ہے۔ پہلی جائیداد پندرہ سال کی سروس کے بعد، دوسری پچیس سال، تیسری اٹھائیس سال اور آخری تینتیس سال کی سروس کے بعد ملتی ہے۔

اس کے علاوہ مختلف ہاؤسنگ سکیموں کے بھی اپنے مزے ہیں۔ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ صدر صاحب اس وقت کروڑوں کی جائیداد کے مالک ہیں۔ ان کی جائیداد کا تخمینہ کوئی چالیس سے پینتالیس کروڑ کے لگ بھگ ہے۔

ارے کوئی ہمیں بھی فوج میں ملازمت دلوا دے۔

برقعے کے پیچھے کیا

جب تین ماہ قبل لاہور کے اجوکا تھیٹر نے برقعہ ویگنزا نامی پرفارمنس پیش کی تو جنرل پرویز مشرف کی روشن خیال انتظامیہ نے اس پر یہ کہہ کر پابندی لگا دی کہ اس سے لوگوں کے مذہبی جذبات مجروح ہو رہے ہیں۔ حالانکہ اس ڈرامے میں محض ان امکانات کی بات کی گئی تھی جو برقعے کی آڑ میں ممکن ہیں۔

اسلام آباد کی لال مسجد کے مہتمم مولانا عبدالعزیز نے تو خیر اب فرار کے لیے برقعہ استعمال کیا لیکن تاریخ برقعے کے طرح طرح کے استعمال کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔

یہ تو خیر عام بات ہے کہ سرپھرے نوجوان کبھی کبھار گرلز کالجز کے سامنے برقعہ اوڑھ کے لڑکیوں کو خوفزدہ یا تنگ کرتے ہیں۔ اس طرح کی خبریں بھی آتی رہتی ہیں کہ بینکوں کے باہر بل جمع کرانے یا یوٹیلٹی سٹورز کے باہر لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے کھڑے تنگ آنے والے کسی مرد نے زنانہ قطار میں برقعہ پہن کر موقع سے فائدہ اٹھانا چاہا اور راز فاش ہونے پر عورتوں سے پٹ گیا۔

لیکن ایسا کونسا طبقہ ہے جس نے برقعے کا فائدہ نہ اٹھایا ہو۔

اشتہاری ملزم پولیس مقابلے کے دوران گھیرا توڑنے کے لیے برقعہ میں چھپ کر فرار ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ بوسنیا کے دارالحکومت سرائیوو میں گزشتہ سال دو برقعہ پوش ڈاکوؤں نے بینک ڈکیتی میں چالیس ملین ڈالر لوٹ لیے۔

دو برس قبل صوبہ سرحد کے شہر مردان میں القاعدہ کا اہم رکن ابوالفراج ال لبی شٹل کاک برقعے میں موٹر سائیکل پر فرار ہوتے ہوئے پکڑا گیا۔ اس کو پکڑنے والے آئی ایس آئی کے مسلح اہلکار بھی برقعے پہن کر ایک قریبی قبرستان میں
ال لبی کا انتظار کر رہے تھے۔

بی بی سی کے سینئر رپورٹر جان سمپسن اور ان کے کیمرہ مین کو نائن الیون کے بعد طالبان کے افغانستان میں برقعہ پہنا کر ہی پشاور سے ننگر ہار پہنچایا گیا تھا۔

اور طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد قندھار میں طالبان کے معروف کمانڈر ملا محمود کو بھی نیٹو کے دستوں نے برقعے میں ہی پکڑا تھا۔

مشہورِ عالم گلوکار مائیکل جیکسن جب چند برس قبل بحرین گئے تو انہیں لوگوں کے ہجوم سے بچنے اور شاپنگ کرنے کے لیے عربی برقعے میں باہر نکلنا پڑا جبکہ بالی وڈ کے معروف موسیقار ہمیش ریشمیا گزشتہ ہفتے اجمیر میں خواجہ غریب نواز کی درگاہ پر پہنچے تو انہیں ایک جھلک دیکھنے والوں سے ہاتھ پاؤں بچانے کے لیے برقعہ اوڑھ کر غریب نواز کی چوکھٹ پار کرنا پڑی۔

پاکستانی سیاست میں بھی برقعے نے کئی رنگ بکھیرے ہیں۔

جب انیس سو تریپن میں احمدی فرقے کے خلاف پنجاب میں ختمِ نبوت کی تحریک چلی اور لاہور میں مارشل لا لگانا پڑا تو تحریک کے ایک مرکزی رہنما مولانا عبدالستار نیازی کو گرفتاری سے بچنے کے لیے برقعے کا سہارا لے کر روپوش ہونا پڑا۔

اسی دوران جب گورنر جنرل غلام محمد نے وزیراعظم ناظم الدین کی حکومت اور آئین ساز اسمبلی کو برخواست کردیا تو اسمبلی کے سپیکر مولوی تمیز الدین خان کو سندھ چیف کورٹ کی عمارت تک پہنچانے اور آئینی پیٹیشن داخل ہونے تک پولیس سے بچانے میں برقعے نے اہم ترین کردار ادا کیا۔

مولانا کوثر نیازی جو پیپلز پارٹی میں آنے سے قبل جماعتِ اسلامی میں فعال تھے۔ ایوبی دور میں انہیں ایک مرتبہ لاہور کی مسجد وزیرخان میں تقریر کے دوران جب پولیس گرفتار کرنے پہنچی تو ان کے حامیوں نے مولانا کوثر نیازی کو ایک خالی دیگ میں ڈال کر باہر پہنچایا جہاں سے وہ برقعہ پہن کر رفوچکر ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

جب تک برقعہ موجود ہے مرد اس میں عورتوں کو بھی چھپاتے رہیں گے اور خود کو بھی۔

وردی برقعہ ہوچکی

بہت ہی ضیعف بزرگوں کے پاس اگر آپ بیٹھیں تو کبھی کبھار وہ یہ ضرور بتائیں گے کہ انگریز کے زمانے میں وردی کا اتنا دبدبہ تھا کہ اگر ایک معمولی پولیس والا کسی گاؤں میں ملزم کی تلاش میں داخل ہوجاتا تو سب کی گھگی بندھ جاتی تھی اور پولیس والا مطلوبہ ملزم کو ہتھکڑی نہیں لگاتا تھا بلکہ اسی کے صافے سے ہاتھ پیچھے باندھ کر کوتوالی تک پیدل لے جاتا تھا۔

اگر آپ کسی پچپن ساٹھ برس کے شخص کو ذرا سا بھی کریدیں تو وہ آپ کو ضرور بتائے گا کہ کس طرح جب پہلا ملک گیر مارشل لاء لگا تھا تو سیاسی کارکن روپوش ہوگئے تھے۔ بستہ الف کے بدمعاش بالکل الف ہوگئے تھے۔ دوکانداروں نے مارے ڈر کے قیمتیں کم کردی تھی۔ ذخیرہ اندوز اپنے گوداموں کی تفصیل لے کر خود باوردی مارشل لاء حکام کے سامنے حاضر ہوجاتے تھے۔ لوگوں نے راتوں رات غیر قانونی ہتھیار گلیوں اور میدانوں میں پھینک دیے تھے اور جرمانے کے خوف سے گلیاں اور محلے خود بخود صاف ہونے لگے تھے۔ مبادا فوجی افسران کوئی سزا نہ دے دیں۔

لیکن جیسے جیسے وردی عام آدمی کو کبھی کبھار کی بجائے ہر وقت نظر آنے لگی وردی کا دبدبہ بھی جھاگ ہونے لگا۔ صرف دس برس کے اندر بات یہاں تک پہنچ گئی کہ ڈھاکے کا ایک عام سا بنگالی رکشہ ڈرائیور بھی چھ فٹ کے وردی والے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سامنے سے گزرنے لگا۔

وقت نے یہ بھی دکھا دیا کہ جو سیاسی کارکن ایوب خان اور یحیی خان کے مارشل لاء ادوار میں وردی کی دہشت سے دبک کر بیٹھ گئے تھے اور بہت سوں نے معافی نامے بھی لکھ کر دیے تھے۔ انہی کی اولادوں نے جنرل ضیا کے ننگے مارشل لاء کے دوران پیٹھ پر کوڑے کھا کر اور گلے میں پھندا ڈال کر وردی کے دبدبے کو سوالیہ نشان بنا دیا۔

شاید اسی سے حوصلہ پا کر دس برس بعد آسمان نے یہ منظر بھی دیکھا کہ پنجاب جیسے وفادار صوبے کے لاکھوں مزارعوں نے ملٹری فارمز کی انتظامیہ کی جانب سے خود کو بے دخل کرنے کی کوششوں کی اس طرح مزاحمت کی کہ باوردی حکام حیران و پریشان رہ گئے۔

دبدبہ فاصلے سے پیدا ہوتا ہے اور جب من و تو کی تمیز ہی ختم ہوجائے تو پھر کیسا دبدبہ، کونسا ڈر اور کہاں کا وقار۔

زندگی کے ہر شعبے میں مداخلت اور مفادات میں حصہ داری کی شدید خواہش نے وردی کی حرمت کو جس طرح ضرب لگائی ہے۔اس کے نتیجے میں نوبت یہ آگئی ہے کہ ایک سرکاری مسجد کے مولوی سے لے کر بلوچستان کے مفلوک الحال قبائلی تک، مصلحت پسند تاجر سے لے کر کسی بھی سیاسی جماعت کے کنگلے کارکن تک ایک سڑک چھاپ دانشور سے لے کر ایک لاغر سے صحافی تک ہر ایرا غیرا وردی والوں کے منہ کو آرہا ہے۔

ایسے میں صدرِ مملکت کی یہ ضد بہت عجیب سی لگتی ہے کہ وردی ہی ان کی طاقت کا سرچشمہ ہے۔

کیا اب بھی یہ حقیقت تسلیم کرنے کا وقت نہیں آیا کہ وردی اور دبدبہ ماضی کی کہانی ہوچکی۔ اب تو یہ فکر کرنی چاہیے کہ وردی اور برقعے میں جو فرق رہ گیا ہے کہیں وہ بھی نہ مٹ جائے۔

نذیر عباسی: ایک کمیونسٹ کا قتل

ضیاء دور میں نذیر عباسی نے قلی کیمپ کوئٹہ سے رہائی پائی تو انہوں نے اپنا احوال بیان کرتے ہوئے مجھے بتایا تھا کہ خفیہ اداروں کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ تم نے کام بند نہیں کیا اور اب کے پکڑے گئے تو زندہ نہیں بچوگے۔

سال انیس سو اسی میں ان اہلکاروں نے یہ بات سچ ثابت کرکے دکھائی اور نذیر عباسی دوران تفتیش ہلاک ہو گئے۔

اب تو بہت کچھ بدل چکا ہے۔ حکومت اور امریکہ کو نہ کسی کے کمیونسٹ ہونے پر اورنہ کمیونسٹ پارٹی پر اعتراض ہے۔ پچاس کی دہائی سے لے کرسوویت یونین کے ٹوٹنے تک کمیونسٹ ہونا حکومت کے لیے ایسا تھا جیسے سانپ کی دم پر پاؤں رکھ لیا ہو۔

جب بھی کوئی اہم موڑ آیا اور کوئی کمیونسٹ مقبول لیڈر کے طور پر ابھرا، حکومت نے اسے حسن ناصر اور نذیر عباسی کی طرح زندہ نہیں چھوڑا یا جام ساقی کی طرح تب تک قید رکھا کہ وہ ذہنی یا جسمانی طور پر اپاہج ہو جائے۔

اس لیے پارٹی اور اس کے لیڈر اور کارکن زیرِ زمین یعنی روپوش ہو کر کام کرتے تھے۔

افغانستان میں کمیونسٹ انقلاب کے بعد پاکستان کی حکومت ڈری ہوئی تھی کہ کہیں یہاں پر بھی کوئی ایسا انقلاب نہ آ جائے۔ اس زمانے میں پارٹی نے ’چھینو چھینو پاکستان، جیسے چھینا افغانستان‘ کے موضوع سے ایک ہینڈ بل شائع کیا جو ملک بھر میں تقسیم کیا گیا۔

یہ ہینڈ بل اشاعت سے لے کر اور بعد میں بھی خاصا متنازع رہا کہ واقعی پاکستان کے کمیونسٹ اس پوزیشن میں ہیں یا تھے کہ وہ افغانستان کی طرح یہاں انقلاب لے آتے؟

بہر حال افغان انقلاب کے بعد پاکستان حکومت کی نظر میں کمیونسٹ اور زیادہ خطرناک ہوگئے تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ لوگوں میں کمیونسٹوں کی مقبولیت بڑھ رہی تھی۔

جام ساقی کی گرفتاری پاکستان کے کمیونسٹوں کے لیے بڑا دھچکا تھا۔ دوسرا دھچکا کمیونسٹ پارٹی کے ٹریڈ یونین فرنٹ پر کام کرنے والے اور مقبول مزدور رہنما شمیم واسطی کی گرفتاری تھی۔

حکومت نےتیسرا وار انیس سو اسی میں کیا جب حکومت پارٹی کے تین خفیہ مقامات کا سراغ لگانے میں کامیاب ہو گئی جو پارٹی کے دفاتر کے طور پر کام کرتے تھے۔ یوں ضیاء حکومت پارٹی کے سرکردہ رہنما گرفتار کرنے اور اس کا نیٹ ورک توڑنے میں کامیاب ہوگئی۔

فوج کے خفیہ اداروں نے کراچی کی ایک کچی آبادی میں چھاپا مار کر وہاں سے پروفیسر جمال نقوی، نذیر عباسی، کمال وارثی اور شبیر شر کو گرفتار کر لیا۔
بعد میں اسی مقدمے میں میری اور بدر ابڑو، امر لال کو بھی گرفتار کیا گیا۔

یہ مقدمہ بعد میں جام ساقی کیس کے طور پر مشہور ہوا۔ ملک کے نامور سیاستدان بینظیر بھٹو، ولی خان، میر غوث بخش بزنجو، اور دیگر رہنما کمیونسٹوں کے دفاع کے لیے گواہوں کے طور پر فوجی عدالت میں آئے۔

جام ساقی کی گرفتاری کے بعد نذیر عباسی بتدریج ان کی کمی کو پورا کر رہے تھے۔ وہ نوجوان، باصلاحیت، نڈر اور سیاسی حلقوں میں جانے پہچانے جاتے تھے۔ نذیر عباسی اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو یہ یقین تھا کہ جام ساقی کو ایک طویل عرصے تک رہائی نہیں ملنے والی۔

نذیر عباسی سے میری پہلی ملاقات ستّر کی دہائی کے شروع میں ہوئی جب بنگال میں فوجی آپریشن چل رہا تھا۔ اس ملاقات کے بعد ہم نے ایک ساتھ پارٹی کی طلبا تنظیم سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں کام کیا۔

اکثر اوقات ایسا بھی ہوتا تھا کہ ہم لوگ یونیورسٹی سے سیدھے حیدرآباد میں واقع ٹریڈ یونین آفس آتے تھے اور وہاں پرمختلف کارخانوں میں مزدوروں کے مسائل پر چلنے والی جدوجہد میں ان کی مدد کرتے تھے۔ ٹریڈ یونین کے ساتھی بشیربہرا، محبوب علی، عبدالحئی، اشفاق پیارے، چاچا مرتضیٰ، چاچا مظہر، قلندر بخش مہر، زمان خان ہوتے تھے۔ کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ ہم نے کئی کئی راتیں کالی روڈ کے علاقے میں مزدوروں کی بستیوں میں گزاریں۔ اس دوران ان سے مزدور تحریک اور سیاسی صورتحال پر بات چیت کرتے تھے اور اسٹڈی سرکل چلاتے تھے۔ ہماری اس کوشش کے نتیجے میں بعض مزدور لیڈر پارٹی ممبر بنے۔

بقول نذیر کے کمیونسٹ کام ہمہ جہتی ہوتا ہے۔ ہم اگر طلباء محاذ پر کام کر رہے ہیں تو اپنے آپ کو طلبہ تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ اسی طرح سے جن جن جگہوں پر ہاری تنظیمیں ہوتی تھیں یا ہاریوں کی جدو جہد چل رہی ہوتی تھی تو نذیر ہمیں وہاں بھی لے جاتے تھے۔ جب یونیورسٹی میں پڑھنے والے طلبا ہاریوں یا مزدوروں میں جاتے تھے تو ان کا حوصلہ بڑھتا تھا۔

جب ہم گاڑی کھاتہ میں اترے تو سب سے پہلے پکوڑے اور ڈبل روٹی خریدی اور ہوٹل میں بیٹھ کر چائے پی۔ نذیر کے کہنے پر پکوڑے والے اور ہوٹل والے کو میں نے پیسے دیئے اور اسٹیشن کی طرف چل پڑے۔ راستے میں وہ بڑے پراسرار انداز میں مسکرائے بتایا کہ پیسے اس کے پاس بھی نہیں ہیں۔ میں نے کہا پھر کیسے چلیں گے نوابشاہ۔ ہم لوگ بغیر ٹکٹ کے ریل گاڑی میں بیٹھ گئے۔ پورا راستہ میں جھگڑتا رہا کہ یہ کیا بے وقوفی ہے۔ پکڑے گئے تو کیا ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ ’کوئی آیا تو بتائیں گے کہ طالب علم ہیں اور ہاریوں کے لئے جا رہے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ اگر کام کرنا ہی ہے تو سمجھو ہر صورت میں کرنا ہے۔‘

مجھے یاد ہے کہ جب سندھ یونیورسٹی میں سیاسی کام کرتے تھے تو وہ اپنے آبائی شہر ٹنڈوالٰہ یار سے آتے تھے۔ یونیورسٹی سے واپسی پر بس میں دن بھر کے کام کا جائزہ لینے کے لیے نوٹس کا تبادلہ کرنا ہوتا تھا لیکن وہ بس میں سوئے ہوئے ہی ملتے تھے۔

نذیر عباسی پر شادی کرنے کا مقدمہ بھی دائر کیا گیا کہ انہوں نے شادی کے نام پر سیاسی جلسہ کیا ہے۔ انہیں گرفتار کرکے کوئٹہ کے قلی کیمپ میں رکھا گیا۔

اسی عرصے میں ان کے والد کا انتقال ہوا لیکن انہیں آخری دیدار کے لیے بھی رہا نہیں کیا گیا۔ پانچ ماہ کے بعد انہیں ڈرامائی انداز میں رہا کیا گیا۔

ایک دن مذاق میں کہا کہ ’دیکھو میں اور حمیدہ بلوچستان کے پہاڑوں کی سیر کر کے آئے ہیں۔ حمیدہ مچ جیل میں تھیں اور میں کوئٹہ کے قلی کیمپ میں۔‘ شادی کے بعد ان کی بیوی حمیدہ جو کہ پارٹی کی کارکن تھیں، کو ’پٹ فیڈر ہاری تحریک‘ میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

قلی کیمپ کوئٹہ سے واپسی پرپارٹی نے انہیں احتیاط کرنے کی ہدایت کی۔ اس کے بعد نذیر روپوش ہوگئے اور روپوشی میں پارٹی کا کام پہلے سے بھی زیادہ لگن کے ساتھ جاری رکھا۔

تیس جولائی انیس سو اسی کو نزیر عباسی دوبارہ گرفتار ہوگئے اور نو اگست کو انہیں اذیتیں دے کر قتل کر دیا گیا۔ انہیں ایدھی نے غسل اور کفن دیا اور ایک لاوارث کی طرح سخی حسن قبرستان کراچی میں دفنایا گیا۔

گرفتاری کے بعد تحقیقات کے دوران مجھے معلوم نہیں تھا کہ کون کون گرفتار ہے۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ اگست کے مہینے میں ایک دن کچھ افسران آئے اور آ کر میری طبیعت پوچھی اور کہا کہ ٹارچر تو نہیں ہوا ہے۔ مجھے بہت تعجّب ہوا کہ آج اچانک ان کا لب ولہجہ اتنا نرم اور انسانیت والا کیوں ہے۔ میں اس رویے کو ڈرامہ سمجھتا رہا جو اکثر اوقات تحقیقات میں خفیہ ادارے اپناتے ہیں۔ لیکن دراصل یہ سب کچھ نذیر کی موت کے بعد ہوا تھا۔

تحقیقات میں تقریباً دو ماہ گزارنے کے بعد جب مجھے جیل بھجوانے کے لیے ایک مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تو اس وقت پروفیسرجمال نقوی کو بھی لایا گیا تھا۔ جیل جاتے وقت پولیس کی گاڑی میں میں نے پروفیسر کو بتایا کہ حالات خاصے خراب ہیں سخت سزائیں آئیں گی۔ یہ کسی کو لٹکانا چاہ رہے ہیں۔ پروفیسر کا کہنا تھا کہ نہیں، تب تک حالات میں تبدیلی آ جائے گی۔ میرا یہ شبہ درست ثابت ہوا۔ انہوں نے کسی عدالت کے ذریعے تو سزا نہیں دی لیکن تشدد کے ذریعے ایک ساتھی کو مار دیا۔

نذیر نے مر کر بہت ساروں کو بچایا۔ اپنے نظریے اور پارٹی کی ساکھ کے ساتھ ساتھ ساتھیوں کو بھی، جو گرفتار تھے اور جو باہر تھے۔

وہ ایک خوش مزاج، سریلی آواز والے نڈر انسان تھے۔ ایک ایسی شخصیت جو اصولوں پر سودے بازی کے لیے سوچ بھی نہیں سکتی۔

جنرل ضیاء کی موت کے بعد بینطیر بھٹو حکومت نے ایک ادھوری کوشش کی کہ نذیر عباسی کے قتل کا مقدمہ دوبارہ کھولا جائے لیکن تب تک دنیا ہی بدل چکی تھی۔ کمیونسٹ پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی تھی اور اس معاملے کی مطلوبہ پیروی نہ ہونے کی وجہ سے ایک کمیونسٹ کا قتل جس کے خاصے شواہد بھی موجود تھے، ملزمان کے خلاف نہیں چلایا جا سکا۔